تحریر: مولانا عادل حسن امینی
حوزه نیوز ایجنسی | یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر پاکستان میں ایک مستحکم، عادلانہ اور اسلامی طرزِ حکمرانی کیوں قائم نہ ہو سکی؟ کیا اس کی وجہ صرف بیرونی طاقتیں ہیں؟ کیا مسئلہ صرف سیاسی قیادت کی کمزوری ہے؟ یا اس کے پیچھے پاکستان کے ریاستی اور سیاسی ڈھانچے میں موجود کچھ بنیادی کمزوریاں بھی ہیں؟
اس سوال کا جواب کسی ایک شخصیت، جماعت یا ادارے کو ذمہ دار قرار دے کر نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کا سیاسی بحران کئی تاریخی، ادارہ جاتی، فکری، معاشی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہے۔
1️⃣ قیامِ پاکستان کے بعد ریاستی اداروں کا عدم استحکام
پاکستان ایک ایسے وقت میں وجود میں آیا جب اسے بیک وقت ریاستی ادارے قائم کرنے، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی مسائل حل کرنے اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا تھا۔ ابتدائی برسوں میں مضبوط سیاسی ادارے اور مستقل آئینی نظام تشکیل نہ پا سکے۔
1956 ء کا آئین نافذ ہوا لیکن زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا اور 1958 ء میں ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ اس کے بعد سیاسی نظام بار بار تعطل کا شکار ہوا۔ 1962 ء کا آئین، پھر 1973 ء کا آئین اور اس کے بعد مختلف ادوار میں آئینی ترامیم، معطلی اور سیاسی مداخلتوں نے ریاستی اداروں کو وہ مستقل مزاجی نہ دی جس کی ایک مستحکم جمہوری ریاست کو ضرورت ہوتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں ایک خطرناک سیاسی روایت پیدا ہوئی:سیاسی بحران، ادارہ جاتی تصادم، فوج کی غیر معمولی مداخلت، سیاسی عمل کی معطلی اور پھر نئے سرے سے سیاسی بحران۔
2️⃣ طاقت کے مراکز میں عدم توازن
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم مسئلہ ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان عدم توازن بھی ہے۔ فوج پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک انتہائی اہم ادارہ ہے، لیکن مختلف ادوار میں اس کا کردار براہِ راست سیاسی اقتدار سے لے کر بالواسطہ سیاسی اثر و رسوخ تک پھیلا رہا ہے۔
1958 ء، 1977 ء اور 1999 ء کے فوجی اقتدار نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں منتخب سیاسی نظام ابھی تک اس قدر مضبوط نہیں ہو سکا کہ اقتدار کی منتقلی صرف آئینی اور سیاسی طریقہ کار کے ذریعے یقینی بنائی جا سکے۔یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے:
ریاستی اداروں کی مضبوطی ضروری ہے، لیکن کسی بھی ریاست میں ایک ادارے کی غیر معمولی سیاسی بالادستی طویل مدت میں دوسرے اداروں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔
اسلامی سیاسی تصور میں بھی طاقت کو جواب دہ اور قانون کا پابند ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلامی حکومت کا تصور صرف حکمران کے مذہبی نعروں سے نہیں بلکہ عدل، شوریٰ، امانت، قانون کی بالادستی اور احتساب سے مکمل ہوتا ہے۔
3️⃣ سیاسی جماعتوں کا شخصیات کے گرد گھومنا
پاکستانی سیاست کا ایک اور بڑا مسئلہ مضبوط نظریاتی اور ادارہ جاتی سیاسی جماعتوں کے بجائے شخصیات، خاندانوں اور گروہی مفادات کا غلبہ ہے۔اکثر سیاسی مباحث میں یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ:
حکومت کس کی ہوگی؟
جبکہ اصل سوال ہونا چاہیے:
حکومت کیسے چلے گی؟
ایک مضبوط سیاسی نظام میں جماعتیں محض انتخابات جیتنے کے لیے نہیں بلکہ واضح معاشی، تعلیمی، عدالتی، خارجہ اور سماجی پالیسیوں کے ساتھ عوام کے سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں اس سیاسی ادارہ سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔
یہ مسئلہ مذہبی جماعتوں سمیت تقریباً تمام سیاسی دھاروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
اسلامی حکومت سے مراد کیا ہے؟
پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کی بحث میں سب سے اہم فکری سوال یہی ہے کہ اسلامی حکومت سے مراد کیا ہے؟
پاکستان کے آئین میں اسلام کو ریاست کا دین قرار دیا گیا ہے، جبکہ قراردادِ مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور عوامی نمائندگی جیسے اصولوں کا ذکر موجود ہے۔
اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے آئینی تصور میں اسلام موجود ہے یا نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
اسلامی اصولوں کو ریاستی اداروں، قانون، معیشت، عدلیہ، تعلیم، سیاست اور روزمرہ حکمرانی میں کس طرح مؤثر طور پر نافذ کیا جائے؟
یہاں ایک بنیادی علمی اختلاف بھی سامنے آتا ہے۔ مختلف مذہبی و سیاسی مکاتبِ فکر اسلامی حکومت کے ڈھانچے، قانون سازی، پارلیمنٹ، شوریٰ، فقہ، اجتہاد، ریاستی اختیار اور عوامی حاکمیت کے تعلق کو مختلف انداز میں سمجھتے ہیں۔
جب تک اس سوال پر سنجیدہ علمی مکالمہ اور وسیع قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوتا، صرف ’’اسلامی نظام‘‘ کا نعرہ عملی سیاسی پروگرام نہیں بن سکتا۔
فرقہ وارانہ تقسیم: اسلام کے نام پر ایک بڑا چیلنج
پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، لیکن یہاں مختلف فقہی اور کلامی مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ یہ تنوع بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہبی اختلاف سیاسی اقتدار کی کشمکش میں تبدیل ہو جائے۔
اسلامی حکومت کا بنیادی مقصد عدل اور وحدت ہے، نہ کہ کسی ایک گروہ کی بالادستی۔
اگر اسلامی نظام کے نام پر معاشرے میں فرقہ وارانہ تصادم بڑھ جائے تو اس سے اسلامی سیاست کا اصل مقصد ہی متاثر ہوگا۔
لہٰذا پاکستان کے لیے اسلامی سیاسی تصور ایسا ہونا چاہیے جو اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ شہری حقوق، مذہبی آزادی، عدل، مساوات اور تمام شہریوں کے قانونی تحفظ کو یقینی بنائے۔
معاشی بحران اور حکمرانی کی کمزوری
سیاسی استحکام مضبوط معیشت کے بغیر بھی ممکن نہیں۔
کمزور ٹیکس نظام، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، کرپشن اور معاشی عدم مساوات نے پاکستانی ریاست کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
اسلامی حکومت کا تصور صرف حدود اور قوانین کے نفاذ تک محدود نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی حکمرانی کا ایک بنیادی مقصد عدل اجتماعی اور معاشی انصاف بھی ہے۔
زکوٰۃ، صدقات، بیت المال، امانت، دیانت، منصفانہ تجارت، مزدور کے حقوق اور دولت کے منصفانہ گردش جیسے اصولوں کو جدید معاشی اداروں کے ساتھ مربوط کیے بغیر اسلامی معاشی نظام کی بات محض نظری گفتگو بن کر رہ جائے گی۔
قانون کی بالادستی: اصل امتحان
کسی بھی حکومت کی کامیابی کا سب سے بڑا معیار یہ ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
اگر ایک عام شہری قانون کے سامنے جواب دہ ہو لیکن طاقتور شخص، سیاسی رہنما، بااثر خاندان یا ریاستی عہدہ دار خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے تو ریاست کا اخلاقی اور سیاسی اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں حکمران بھی قانون اور اخلاقی اصولوں کے تابع تصور کیے گئے ہیں۔ اس لیے اسلامی حکومت کی بنیاد صرف مذہبی قانون کے نفاذ پر نہیں بلکہ حکمران سمیت ہر شخص کی جواب دہی پر ہونی چاہیے۔
بیرونی طاقتیں
پاکستان کے سیاسی بحران میں عالمی طاقتوں، علاقائی تنازعات، افغانستان، کشمیر، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور سرد جنگ کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ہر داخلی ناکامی کو بیرونی سازش قرار دینا بھی علمی طور پر درست نہیں۔
اگر ایک ریاست کے ادارے مضبوط ہوں، قانون کی بالادستی قائم ہو، سیاسی جماعتیں منظم ہوں، معیشت مستحکم ہو اور عوام سیاسی طور پر باشعور ہوں تو بیرونی دباؤ کے مقابلے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
لہٰذا بیرونی مداخلت کو مسئلے کا ایک عامل سمجھنا چاہیے، مسئلے کی مکمل اور واحد وجہ نہیں۔
اصل رکاوٹ شاید ’’اسلام کی کمی‘‘ نہیں بلکہ ’’اسلامی اصولوں کی ادارہ جاتی تطبیق‘‘ ہے
پاکستان کی سب سے بڑی فکری غلطیوں میں سے ایک یہ ہو سکتی ہے کہ ہم اسلامی حکومت کو صرف ایک نعرہ یا حکومتی ڈھانچے کی تبدیلی سمجھیں
حکومت بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔
نظام اس وقت بدلتا ہے جب:
قانون بدلتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں، احتساب غیر جانب دار ہوتا ہے، تعلیم بہتر ہوتی ہے، معیشت منصفانہ بنتی ہے، سیاست اخلاقی ہوتی ہے اور حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتا ہے۔
قرآن مجید کا سیاسی و اجتماعی تصور صرف اقتدار حاصل کرنے کا پروگرام نہیں بلکہ عدل قائم کرنے کا مشن ہے۔
اسی لیے اگر پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھانا ہوگا:
ہم کس قسم کی اسلامی ریاست چاہتے ہیں اور اس ریاست کو چلانے کے لیے کون سے مضبوط، شفاف اور جواب دہ ادارے درکار ہیں؟
آگے کا راستہ کیا ہے؟
پاکستان کے سیاسی بحران کا حل کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے میں نہیں بلکہ ایک جامع قومی اصلاحی منصوبے میں تلاش کرنا ہوگا۔
اس کے لیے کم از کم پانچ بنیادی اقدامات ضروری ہیں :
1️⃣ آئین اور قانون کی بالادستی کو ہر ادارے اور فرد پر یکساں نافذ کیا جائے۔
2️⃣ تمام ریاستی اداروں کے آئینی دائرۂ کار کو واضح اور محفوظ کیا جائے اور سیاسی اقتدار کی منتقلی صرف آئینی طریقے سے ہو۔
3️⃣ سیاسی جماعتوں کو شخصیات اور خاندانوں کے بجائے ادارہ جاتی، نظریاتی اور پالیسی بنیادوں پر مضبوط کیا جائے۔
4️⃣ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان سنجیدہ علمی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ ’’اسلامی حکومت‘‘ کے عملی خدوخال پر کم از کم بنیادی قومی اتفاقِ رائے پیدا ہو۔
5️⃣ اسلامی اصولوں کو صرف قانون سازی تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، عدلیہ، معیشت، انتظامیہ، احتساب اور سماجی انصاف کے نظام میں عملی شکل دی جائے۔
پاکستان کے 79 سالہ سیاسی سفر کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ریاست صرف نعروں سے مضبوط نہیں ہوتی؛ مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی، عدل، سیاسی بصیرت اور اخلاقی قیادت سے مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان کا اسلامی تشخص اس کے آئینی اور قومی تصور کا اہم حصہ ہے، لیکن اسلامی ریاست کا اصل امتحان اس بات میں ہے کہ کیا اس کے شہری کو انصاف ملتا ہے؟ کیا حکمران جواب دہ ہے؟ کیا قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہے؟ کیا دولت اور وسائل میں انصاف ہے؟ کیا اختلافِ رائے کا احترام ہوتا ہے؟ کیا اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں؟ اور کیا ریاست عوام کے لیے رحمت بنتی ہے یا طاقت کا ذریعہ؟
اگر ہم ان سوالات کا جواب مثبت طور پر تلاش کر سکیں تو اسلامی حکومت محض ایک سیاسی نعرہ نہیں رہے گی بلکہ عدل، امانت، شوریٰ، آزادی، مساوات اور خدمتِ خلق پر مبنی ایک قابلِ عمل نظامِ حکمرانی بن سکتی ہے۔
پاکستان کو شاید ایک اور نعرے سے زیادہ ایک نئے سیاسی و اخلاقی معاہدے کی ضرورت ہے ایسا معاہدہ جس میں اسلام صرف آئین کی عبارت میں نہیں بلکہ حکمرانی کے کردار، اداروں کی دیانت اور عوام کے حقوق میں نظر آئے۔









آپ کا تبصرہ